ابنا: افغان وزیر دفاع نے اس ملک کی سینیٹ میں تقریر کرتے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ نورستان کنڑ ننگرہار لغمان اور پکتیکا صوبوں میں طالبان کے حملوں میں اضافہ ہو گيا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ صوبے گزشتہ برسوں کے دوران سکیورٹی کے تیسرے درجے میں تھے اور زیادہ تر خطرات جنوب مغربی علاقوں میں تھے۔ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر سکیورٹی کی صورت حال کے بارے میں امریکہ کے فوجی حکام کے بیانات کو پیش نظر رکھتے ہوئے افغانستان کے مشرقی علاقوں میں جنگ کا دائرہ پھیلنے پر افغان وزیردفاع کی تشویش کو بہتر طریقے سے سمجھا جا سکتا ہے۔ افغان وزیر دفاع نے جنگ کا دائرہ ملک کے مشرقی علاقوں تک پھیلنے کے بارے میں بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے کہ جب امریکی سینیٹر جان کیری نے ایک ماہ قبل فارن پالیسی جریدے میں اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ امریکہ افغانستان کے جنوب میں تعینات اپنے فوجیوں کو مشرقی افغانستان یعنی پاکستان کی سرحد کے قریب تعینات کرنا چاہتا ہے۔ ان کے بعد افغانستان میں امریکی فوج کے سابق کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے بھی کہ جو اس وقت سی آئی اے کے سربراہ بن گئے ہیں، ایسی ہی بات کہی تھی۔ اسی دوران امریکی چیئرمین چیفس آف جوائنٹ اسٹاف ایڈمرل مائیک مولن نے بھی دعوی کیا کہ افغانستان اور پاکستان کی سرحد دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں کی بنا پر دنیا کا خطرناک ترین علاقہ ہے۔ سیاسی مبصرین کے خیال میں امریکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ سرحد کو دنیا میں دہشت گردی اور بحران کا مرکز ظاہر کرنا چاہتا ہے تاکہ ایک طرف تو وہ اپنے فوجیوں کو اس علاقے میں لے آئے اور دوسری طرف پاکستان کو افغانستان کے بارے میں امریکہ کے ساتھ زیادہ تعاون کرنے پر مجبور کر سکے۔ یہ ایسے وقت میں ہے کہ پاکستان کے حکام نے پاک افغان سرحد پر القاعدہ کے افراد کی موجودگی کے امریکی حکام کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے امریکی مداخلت کو علاقے میں بحران میں اضافے کا باعث قرار دیا ہے۔ امریکہ افغانستان میں بحران جاری رکھ کر اور اسے افغانستان کے تمام علاقوں میں پھیلا کر یہ کوشش بھی کر رہا ہے کہ افغان حکومت کو ملک میں امن و امان کے قیام میں ناکام ظاہر کرے اور پورے افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کے فوجیوں کی موجوددگی کا جواز پیش کر سکے۔سیاسی تجزیہ نگاروں کے خیال میں تشدد اور بدامنی کو پاکستانی کی سرحدوں تک لانا اور اس بارے میں امریکی حکام کے بیانات اس تشویش میں اضافہ کرتے ہیں کہ ممکن ہے امریکی فوجی دہشت گرد گروہوں کا مقابلہ کرنے کے بہانے پاکستان کی سرزمین میں داخل ہو جائیں کہ اس صورت میں علاقہ ایک نئے اور سنگین بحران میں داخل ہو جائے گا۔ اس بنا پر علاقائی اور بین الاقوامی حلقوں کو افغان وزیر دفاع کے بیان کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔..............
/169